معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ (rajab butt )کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے ۔
برطانوی ویزے کی منسوخی رجب بٹ کی ملک بدری کی وجہ بنی ، ذرائع کے مطابق حالیہ قانونی مقدمات کو ویزا اپلیکیشن میں ظاہر نہ کرنے پر ان کا ویزا منسوخ کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں رجب بٹ کی نائٹ کلب میں شرمناک حرکت، ویڈیو وائرل
رجب بٹ پاکستان میں درج مقدمات کے سبب مہینوں سے برطانیہ میں روپوش تھےاور وہ آج صبح کی پرواز سے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔یوٹیوبر وطن واپسی پرمبینہ طور پر ایک جوا ایپ کی تشہیر کے الزام میں درج مقدمے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے 10 دسمبر تک کے لیے یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم مبارک کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ ملزمان کو اسلام آباد ایئرپورٹ لینڈ کرنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔
عدالت نے رجب بٹ اور ندیم مبارک کو بدھ کے روز عدالت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیا ہے۔
رجب بٹ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سرینڈر کرے گا
ایڈووکیٹ علی اشفاق میاں نے ایکس پر بتایا کہ وہ رجب بٹ کے وکیل ہیں، رجب بٹ کو ڈی پورٹ نہیں کیا گیا، اس قانونی موقف کے لیے میرے پاس تمام درست اور دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
رجب بٹ کو پچھلے دو سال میں پہلے بھی میں نے نمائندگی کرکے تین مقدمات میں بے گناہ ثابت کروایا اور عدم ملوث ثابت کروایا-
موجودہ درج مقدمات میں چند ماہ پہلے کے حالات کو مدنظر رکھتے ھوئے میرے قانون مشورہ پر مزید کاروائی کو وقتی طور پر موخر کیا جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ایک ڈھونگ رچاؤ… https://t.co/cxAqsOMith
— Mian Ali Ashfaq (@MianAliAshfaq) December 9, 2025
علی اشفاق میاں نے بتایا کہ رجب بٹ نے اپنی آزاد مرضی سے برطانیہ چھوڑ کر پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا، رجب بٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرینڈر کردیا ہے، کل عدالت میں پیش ہوں گے۔
عدالت نے تمام حکام کو رجب بٹ کی عدالت تک پہنچنے میں رکاوٹ بنانے سے روک دیا ہے۔ وہ کل بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ذاتی طور پر پیش ہوں گے تاکہ آج جاری کیے گئے عدالت کے احکامات کی تعمیل کریں۔
ایکس پر ایک اور صارف کے سوال کا جواب دیتے ہوئے علی اشفاق میاں نے مزید بتایا کہ رجب بٹ کو پچھلے دو سال میں پہلے بھی میں نے نمائندگی کرکے تین مقدمات میں بے گناہ ثابت کروایا اور عدم ملوث ثابت کروایا۔
موجودہ درج مقدمات میں چند ماہ پہلے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے قانونی مشورہ پر مزید کاروائی کو وقتی طور پر موخر کیا گیا جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ایک ڈھونگ رچاؤ مقدمات درج کرنے کا سلسلہ تھا میرا چار ماہ پہلے کا موقف درست ثابت ہوا۔

