پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر خان کے درمیان زوردار ٹاکرا دیکھنے کو ملا۔
جنید اکبر خان نے ڈاکٹرفضل چوہدری پرالزام لگایا کہ حالات دن بہ دن سخت ہو رہے ہیں اورمختلف دروازے بند کر دیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی پارلیمانی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔
اس پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ آپس میں ذاتی اجلاس کی بجائے سپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کریں اور مسائل کو باقاعدہ قانونی طریقے سے حل کریں۔
تاہم جنید اکبر نے کہا کہ ظلم بند کیا جائے، ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں، لیکن موجودہ رویے قابل قبول نہیں ہیں۔
پاکستان اور اداروں کیخلاف بات کرنے والی زبان کھینچ لی جائے گی،طلال چوہدری
ڈاکٹر فضل چوہدری نے سخت لہجے میں کہا کہ آپ اپنی حرکتیں درست کریں اورنظم و ضبط قائم رکھیں، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ مکالمہ پارلیمانی راہداری میں موجود دیگرارکان کیلئے بھی دلچسپی کا باعث بنا۔
واقعے سے واضح ہوا کہ پارٹی اختلافات کے باوجود قانونی اورآئینی طریقہ کارکوترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پرکسی بھی قسم کا جسمانی تصادم نہیں ہوا، تاہم سیاسی کشیدگی کی شدت قابلِ توجہ رہی۔
