چین کی آن لائن شاپنگ انڈسٹری میں ایک نئی قسم کے فراڈ نے کاروباری اداروں کو شدید متاثر کیا ہے، جس میں صارفین اے آئی کی مدد سے تیار کردہ جعلی تصاویر پیش کر کے غیر قانونی طور پر ریفنڈ حاصل کر رہے ہیں۔
چینی آن لائن مارکیٹس کی پالیسی کے مطابق اگر صارف کے پاس یہ ثبوت ہو کہ خریدا گیا سامان خراب یا معیار کے مطابق نہیں ہے تو وہ ریفنڈ حاصل کر سکتا ہے۔
کارپوریٹ نوکری چھوڑ کر فوڈ ڈیلیور کرنے والا بھارتی نوجوان سوشل میڈیا پر وائرل
رپورٹ کے مطابق اب کئی صارفین اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہوئے عام مصنوعات کی تصاویر میں ترمیم کر کے انہیں خراب یا ٹوٹا ہوا دکھا دیتے ہیں، تاکہ ریفنڈ کا دعویٰ کامیابی سے کیا جا سکے۔

جیایشنگ شہر کے ایک پھل اور سبزی فروش نے بتایا کہ گزشتہ چند مہینوں میں متعدد جعلی ریفنڈ کی درخواستیں موصول ہوئیں، ابتدائی طور پر وہ صارفین پر اعتماد کرتے رہے، لیکن جب درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو شک پیدا ہوا۔
شاپرز کی فراہم کردہ تصاویر میں ڈیجیٹل ترمیم کے آثار دیکھے گئے، مگر آن لائن پلیٹ فارمز نے شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ریفنڈ مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔
کئی آن لائن شاپنگ سائٹس نے مشتبہ تصاویر کے لیے اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز متعارف کرائے ہیں اور صارفین کو انتباہات جاری کیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹولز مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں۔
قبل از وقت دفتر حاضری ملازمہ کو مہنگی پڑ گئی، مالک نے برطرف کر دیا
چین میں ستمبر 2025 میں اے آئی سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز پر واضح واٹرمارک یا لیبل لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ جعلی تصاویر کے استعمال پر قابو پایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق عملی طور پر یہ پابندیاں آسانی سے نظر انداز کی جا سکتی ہیں، جس سے فراڈ کا خطرہ برقرار ہے۔
