لاہور، پنجاب میں کرشنگ سیزن کے دوران گنے کی خریداری میں بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
کین کمشنر پنجاب امجد حفیظ کے مطابق صوبے بھر میں شوگر ملوں کی جانب سے غیر لائسنس یافتہ اور غیر رجسٹرڈ مڈل مین حضرات سے گنا خریدنے کے خلاف بھرپور ایکشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کرشنگ کے دوران گنے کے خریداری مراکز، وزن کے پیمانوں اوردیگرانتظامات کی سخت انسپیکشن کی جا رہی ہے تاکہ کاشتکاروں کو اُن کا جائز حق مل سکے۔
کین کمشنر نے بتایا کہ پنجاب کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر انسپیکشن رپورٹس بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں کمی کی سفارش، سندھ اور بلوچستان میں 8 فیصد تک سستی
گنے کے وزن میں کمی یا غیرقانونی پیمانوں کے استعمال پرکسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، اور جہاں بھی خلاف ورزی سامنے آئے گی وہاں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
امجد حفیظ نے مزید بتایا کہ اب تک مختلف شوگر ملوں کے خلاف وزن میں کمی اورغیرمنظور شدہ پیمانوں کے استعمال پر 6 مقدمات درج کئے جا چکے ہیں جبکہ 11 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گنے کی خریداری کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے غیر رجسٹرڈ مڈل مین کے کردار کو مکمل طور پرختم کیا جا رہا ہے تاکہ کسانوں کو براہِ راست اور بروقت ادائیگیاں ممکن ہو سکیں۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ کریک ڈاؤن سے منڈیوں میں شفافیت بڑھے گی اورکاشتکاروں کے استحصال کی روک تھام ہو گی۔
