بھارت کی 60 ارب ڈالر مالیت کی بالی ووڈ فلم انڈسٹری جعلی فلمی ریویوز اور مصنوعی باکس آفس کلیمز کے باعث ساکھ کے شدید بحران سے گزر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان نے نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے بلکہ سینما ٹکٹوں کی فروخت بھی بری طرح دباؤ میں آگئی ہے۔
اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے فلمی کاروبار کو تبدیل کیا، مگر انڈسٹری کے سینئرز کے مطابق بالی وڈ کی مشکلات بڑی حد تک خود ساختہ بھی ہیں جن میں فلم کو ریلیز سے پہلے ہی ’’ہٹ‘‘ قرار دینے کی روش بھی شامل ہے۔
پروڈیوسر سنیل وادھوا نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر اسٹوڈیوز یا پروڈیوسرز مخصوص ناقدین اور انفلوئنسرز کو شامل نہ کریں تو وہ اچھی فلم کے بھی منفی ریویوز دے دیتے ہیں، اور اگر فلم اچھی نہ ہو تب بھی ادائیگی کے عوض تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں۔
تجزیہ کار راج بنسل کے مطابق عوام اب فلمی ستاروں کے ریویوز پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی جانب سے چار اسٹار دینے ہی کو شائقین شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، جس کے باعث اوپننگ شوز میں ٹکٹوں کی فروخت نمایاں کمی کا شکار ہوتی ہے۔
اندرونی حلقوں کا الزام ہے کہ متعدد انفلوئنسرز کے باقاعدہ ’’ریٹ کارڈ‘‘ موجود ہیں جبکہ پروڈیوسرز پر الزام ہے کہ وہ ابتدائی دنوں کی کمائی بڑھانے کے لیے بڑی تعداد میں ٹکٹیں خود خرید لیتے ہیں۔
جئے پور کے ایک سینما مالک سدھیر کاسلیوال نے بتایا کہ بظاہر آن لائن بکنگ سینکڑوں میں ہوتی ہے مگر ہال میں آدھی سے بھی کم نشستیں بھرتی ہیں، جس سے عوام کو غلط تاثر ملتا ہے۔
حالیہ تنازعات میں اکشے کمار کی فلم ’’اسکائی فورس‘‘ کے نمبرز بھی شامل ہیں جس کی کمائی مبینہ طور پر 60 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 90 لاکھ ڈالر دکھائی گئی۔ اسی طرح 2025 کی ریلیز ’’ٹھمّا‘‘ کے بارے میں بھی باکس آفس کے مصنوعی اعداد پر سوالات اٹھے۔
فلمی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جعلی کمائی کے دعوے اور خریدے گئے ریویوز نہ صرف سامعین کا اعتماد تباہ کر رہے ہیں بلکہ اس سے اسٹارز کے غیر حقیقی معاوضوں میں اضافہ اور نئے ٹیلنٹ کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اس سے نمٹنے کے لیے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے فلمیں خریدنے سے پہلے آڈٹ شدہ باکس آفس رپورٹس طلب کرنا شروع کر دی ہیں۔
ان الزامات اور عوامی ردِعمل کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ رجحان جلد ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ وادھوا کے مطابق یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک پروڈیوسرز اور اسٹوڈیوز میں ٹکٹیں ’’خریدنے‘‘ کا جذبہ باقی ہے۔
