اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے درمیان اہم اور جامع ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دفاع، تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور ثقافتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے، جنہوں نے دفاعی تعاون، تربیتی پروگراموں اور سیکیورٹی پارٹنرشپ سے متعلق بریفنگ دی۔
دونوں ممالک کی قیادت نے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات میں وسعت لانے، مشترکہ منصوبوں کے تبادلے اور ادارہ جاتی سطح پر روابط بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں علاقائی و عالمی فورمز پر باہمی تعاون میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال خصوصاً فلسطین اور غزہ کے بحران پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

پاکستان اور اردن نے فلسطین کے حوالے سے اپنے دیرینہ اور اصولی مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے فوری خاتمے، فائر بندی کے نفاذ اور پائیدار امن کے لیے عالمی کردار کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے غزہ امن معاہدے پر پیش رفت تیز کرنے اور عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم پاکستان پہنچ گئے، صدر اور وزیراعظم کا شاندار استقبال
شہبازشریف نے شاہ عبداللہ دوم کو افغانستان اور بھارت میں حالیہ پیشرفت سے بھی آگاہ کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی پالیسی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

دورے کے موقع پر پاکستان اور اردن کے درمیان میڈیا، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو نئی تقویت ملے گی۔

وزیراعظم نے شاہ عبداللہ دوم اور ان کے وفد کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ بھی دیا، جس میں دونوں ممالک کی قیادت نے مستقبل میں اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ شاہ عبداللہ کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کی پائیدار دوستی اور مثالی تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔
