امریکی حکومت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 50 ہزار نئے وفاقی ملازمین بھرتی کیے ہیں، جن میں زیادہ تر تقرریاں قومی سلامتی سے متعلق اداروں میں کی گئی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات کے مطابق یہ بھرتیاں بالخصوص امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) میں کی گئیں، جس کی تصدیق وفاقی حکومت کے ہیومن ریسورس ڈائریکٹر اسکاٹ کپُور نے ایک انٹرویو میں کی۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ حکومت ایک طرف حکومتی ڈھانچے کو اپنی ترجیحات کے مطابق ترتیب دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب مختلف محکموں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں بھی جاری ہیں۔
نئے ملازمین کی بھرتی کے باوجود انتظامیہ نے متعدد محکموں میں ہائرنگ پر پابندی لگا رکھی ہے اور کئی سرکاری ملازمین کو برطرف بھی کیا جا رہا ہے، جن میں انٹرنل ریونیو سروس (IRS) اور ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار شامل ہیں۔
اسکاٹ کپُور نے پہلے بتایا تھا کہ حکومت رواں سال تقریباً 3 لاکھ سرکاری ملازمین کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس پالیسی کے تحت صدر ٹرمپ نے جنوری میں ایلون مسک کو وفاقی سول ورکرز کی 2.4 ملین کی نفری کو کم کرنے کا منصوبہ شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ مسک نے صدر کی حمایت سے دعویٰ کیا کہ وفاقی ورک فورس حد سے زیادہ بڑی اور غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
انتظامیہ نے وہ ملازمین بھی برطرف کیے ہیں جو شہری حقوق کے قوانین کی نگرانی، ٹیکس وصولی، اور صاف توانائی کے منصوبوں کی دیکھ بھال جیسے کاموں پر مامور تھے۔
حکومتی اصلاحات کے تحت تقریباً 1 لاکھ 54 ہزار ملازمین نے رضاکارانہ طور پر سرکاری ملازمت چھوڑنے کی پیشکش قبول کی۔
ان بائی آؤٹس سے موسم کی پیشگوئی، فوڈ سیفٹی، صحت کے پروگراموں اور خلائی منصوبوں سمیت مختلف شعبے متاثر ہوئے، جیسا کہ سابق سرکاری اہلکاروں اور یونین نمائندوں نے ریئٹرز کو بتایا۔
