شمالی کینیا میں واقع جھیل تُرکانا پر کی جانے والی حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی صرف طوفان، خشک سالی یا سیلاب تک محدود نہیں بلکہ یہ زلزلوں، زمینی دراڑوں اور زیر زمین لاوے کی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ کے ماہر ارضیات جیمز مویراہیڈ کی قیادت میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اگرچہ زمینی پلیٹوں کی حرکت بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن موسمی حالات زمین کے اندرونی نظام کی رفتار کو بڑھا یا کم کر سکتے ہیں، جس سے زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہے۔
ابو ظبی نے سمندر کی صفائی میں عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
تحقیق کے لیے جھیل تُرکانا کے نیچے موجود 27 فالٹ لائنز کا مطالعہ کیا گیا، جس میں پچھلے 10,000 سال کے دوران موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو دیکھا گیا، تقریباً 9,600 سال پہلے سے 5,300 سال پہلے تک افریقہ میں بارشیں زیادہ تھیں اور جھیل کی سطح بلند تھی، جس کے بعد خشک سالی نے پانی کی سطح کم کر دی۔
سائنسدانوں کے مطابق جب جھیل کا پانی زیادہ تھا تو زمین پر دباؤ کی وجہ سے فالٹ لائنوں اور لاوے کی حرکت سست تھی، لیکن جب پانی کم ہوا تو زمین کے اندر دباؤ کم ہوا اور زیر زمین حرکت میں اضافہ ہوا۔
پروفیسر کرس شلز کے مطابق جب جھیل کا پانی کم ہوا تو فالٹ لائنیں تیزی سے حرکت کرنے لگیں اور زیر زمین لاوے کی پیداوار بڑھ گئی۔
دنیا کے سب سے طویل عمر پانے والے جانور اور ان کے حیران کن راز
یہ رجحان نہ صرف افریقہ بلکہ آئس لینڈ اور ییلو اسٹون میں بھی دیکھا گیا ہے، جہاں پانی یا برف کے پگھلنے سے زمین کے اندر دباؤ میں تبدیلی آتی ہے اور زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق آنے والے عشروں میں بارشیں بڑھنے سے جھیل دوبارہ بھر سکتی ہے، جس سے زلزلوں کے امکانات میں کمی متوقع ہے۔
