کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے حملے کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے۔ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نورولی محسود نے دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ دہشتگرد پوری کارروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا تھے ، حملے کی منصوبہ بندی خارجی “زاہد” نے کی جبکہ خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری “جیش الہند” کے نام سے قبول کی۔
اسلام آباد کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کا خودکش دھماکا ، 12 افراد شہید ، 27 زخمی
خارجی نورولی فتنہ الخوارج ( ٹی ٹی پی ) سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اِسی لئے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے۔آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج “جیش الہند” کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تاکہ اصل شناحت سامنے نہ آئے۔
وانا میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام، وزیر اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
حملے کیلئے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے ،کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سکیورٹی خدشات بڑھانا تھا جو بھارتی ایجنسی را کی ڈیمانڈ تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیئے۔ نیشنل ایکشن پلان اور عزم اے استحکام کے تحت آخری دہشتگرد ختم ہونے تک آپریشن جاری رہیں گے۔
