نئی دہلی، من گھڑت خبروں اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے، دہلی دھماکے پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ نے بھارتی فالس فلیگ بیانیہ کا پول کھول دیا۔
ذرائع کے مطابق ریٹنگ کی لالچ میں رپورٹرز نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اٹھا لیے، جس پر بھارتی عوام نے میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔
عوام کا کہنا ہے کہ جب لوگ خوف و ہراس میں مبتلا تھے تو میڈیا نے ایک نہیں بلکہ دو دھماکوں کی غلط خبر پھیلا دی۔
بھارتی شہریوں نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سرکاری ادارے یا پولیس نے تاحال اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کیا۔
دہشتگردوں کا وانا میں اے پی ایس جیسے حملے کا پروگرام تھا ، خواجہ آصف
ایک شہری نے کہا کہ اگر کوئی دہلی دھماکے کے نام پر ووٹ مانگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ دھماکہ اسی نے کرایا ہے کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر شفاف تحقیقات ہوئیں تو تانے بانے حکومت سے جڑتے نظر آئیں گے۔
عوام کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ کوئی دہشتگرد حملہ نہیں بلکہ خود ساختہ کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ شہریوں نے سیاسی ریلیوں میں اس بیانیے پر ووٹ مانگنے والوں پر کڑی نظر رکھنے کا اعلان کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی “گودی میڈیا” پہلے بھی آپریشن سندور کے دوران من گھڑت رپورٹنگ سے جگ ہنسائی کرا چکا ہے، اب بھارتی میڈیا خبروں کا نہیں بلکہ جھوٹ اور مضحکہ خیز دعوؤں کا تھیٹر بن چکا ہے۔
عوام کے مطابق مودی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے اور مکروہ عزائم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔
