مشہور پاکستانی اداکارہ ثروت گیلانی نے حال ہی میں ٹی وی انٹرویو میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے موضوع پر اپنی ذاتی تجربات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو کبھی نظر انداز نہ کیا جائے اور اگر کسی ماں میں ایسے علامات ظاہر ہوں تو فوری مدد حاصل کی جائے۔
ثروت گیلانی نے کہا کہ ذہنی مسائل، خاص طور پر پوسٹ پارٹم ڈپریشن اکثر نظر نہیں آتا، ایسی مضبوط اور قابل خواتین جو روزمرہ کی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہی ہیں، اکثر اس سے گزرتی ہیں اور نہ خود محسوس کرتیں ہیں اور نہ ہی خاندان والے اسے سمجھ پاتے ہیں۔
مہوش حیات کا پاکستانی میڈیا میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ
اداکارہ نے اپنی ذاتی تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تین بار بچے کی پیدائش کے بعد مختلف مشکلات کا سامنا رہا، ابتدائی دو بار وہ اس بات سے ناواقف تھیں کہ انہیں یہ احساسات کیوں آ رہے ہیں، جبکہ تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنی بیٹی کو صحیح طریقے سے فیڈ نہیں کر پا رہیں اور شدید پینک اٹیکس اور انگزائٹی کا سامنا کرنا پڑا۔
ثروت گیلانی نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سات میں سے ایک عورت پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے گزرتی ہے۔ بہت سی خواتین یہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہیں لگتا ہے وہ کمزور ہیں، حالانکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔
گووندا کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا
اداکارہ نے کہا کہ اس دوران بہت عجیب خیالات آتے ہیں، کبھی دل کرتا ہے کہ بیڈ سے اٹھوں یا نہ اٹھوں، کبھی لگتا ہے اگر میں اٹھی تو گر جاؤں گی۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ پنکھا بلا رہا ہے کہ آؤ اور ختم ہو جاؤ، یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان کو خود بھی یقین نہیں آتا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔
ثروت گیلانی نے کہا کہ میں خوش قسمت تھی کہ میرے شوہر ڈاکٹر ہیں اور انہیں یہ سمجھ تھی۔ لیکن زیادہ تر گھروں میں تو لوگوں کو اس لفظ کی بھی سمجھ نہیں، اس لیے میں ہر عورت سے کہوں گی کہ حمل سے پہلے، دورانِ حمل اور پیدائش کے بعد ان چیزوں کے بارے میں ضرور پڑھیں، آگاہی حاصل کریں۔
