معروف اداکارہ مہوش حیات نے پاکستانی میڈیا میں خواتین کی زیادہ نمائندگی کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلمساز خواتین کی کہانیوں کو مرکزی اسکرین پر زیادہ نمایاں کریں۔
مہوش حیات نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں کہا کہ میں عام طور پر سال میں صرف ایک پروجیکٹ کرتی ہوں، لیکن وہ ایسا ہوتا ہے کہ میرا کام یادگار بن جاتا ہے، میڈیا میں خواتین کو ایسے کردار دینے کی ضرورت ہے جو سماج میں مثبت تبدیلی لائیں، جیسے پولیس افسر، ڈاکٹر اور وکیل۔
اقرا عزیز اور یاسر حسین کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری، تصاویر دیکھیں
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بیس سالوں سے کام کر رہی ہوں، حالانکہ میرا کیریئر صرف بارہ سے پندرہ سال پر مشتمل ہے، لیکن میرا کام اتنا اثر رکھتا ہے کہ لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں۔
اداکارہ نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں کہا کہ میں آئندہ دو دہائیوں تک شوبز میں موجود رہنا چاہتی ہوں اور میرا مقصد یہ ہے کہ میں خواتین کو حوصلہ دوں اور انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دوں۔
1936 سے 2024 تک: فلسطین پر تین فلمیں آسکر کے لیے نامزد
واضح رہے کہ مہوش حیات نے اداکاری، ماڈلنگ اور گلوکاری کے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی پیدائش 6 جنوری 1988ء کو کراچی میں ہوئی۔ انہیں سال 2019 میں پاکستان کے اعلیٰ اعزاز تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ مہوش حیات نے مووی “نامعلوم افراد” کے ساتھ سینما میں قدم رکھا اور بعد ازاں “پنجاب نہیں جاؤں گی” و “لندن نہیں جاؤں گا” جیسی ہٹ فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے۔
