سپریم کورٹ میں اُس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب جسٹس منصور علی شاہ نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کا ذکر کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بہت مشکل سوال ہے تو ہم وفاقی آئینی عدالت بجھوا دیتے ہیں، ہم تو ویسے بھی بیچارے ایسے ہی ہیں یہاں!
یہ ریمارکس انہوں نے محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب سے منسلک ڈاکٹر اعظم علی کی ترقی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ کر رہا تھا۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ان کے موکل کو ترقی دینے کے بجائے جونیئر افسران کو آگے بڑھایا گیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں دستاویزات سے دکھائیں کہ واقعی جونیئرز کو ترقی دی گئی اور آپ کے موکل کو نظرانداز کیا گیا۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں
اسی دوران انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں وفاقی آئینی عدالت کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ جملہ کہا، جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ بعدازاں، عدالتِ عظمیٰ نے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کر دی۔
