اسلام آباد: بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کو اب “پاک اسکلز” کے پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کروانا لازم ہو گا۔ بغیر رجسٹریشن کے پاسپورٹ پر پروٹیکٹر جاری نہیں ہو گا۔
وزارت اوورسیز پاکستانیز نے انسانی اسمگلنگ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے “پاک اسکلز” کو متعارف کرایا گیا ہے۔ جو 19 نومبر سے نافذ العمل ہو گا۔ “پاک اسکلز” ایپ پر رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے۔
بیرون ملک نوکری کے خواہشمند درخواست دہندگان کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ جس میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نمبرز، تعلیمی قابلیت اور بیرون ملک روزگار کی تفصیلات شامل ہیں۔
روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والے افراد کو “پاک اسکلز” سرٹیفکیٹ کے بغیر کوئی پروٹیکٹر جاری نہیں ہو گا۔ یہ اقدام انسانی اسمگلنگ اور بیرون ملک روزگار کے ساتھ منسلک خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے بھی بیرون ملک روزگار کے لیے سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے نیا ضابطہ نافذ کیا تھا۔ جس میں انہیں گریڈ 18 یا 19 کے سینئر سرکاری افسر کے دستخط شدہ حلف نامہ پیش کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی نشستوں میں اضافہ، خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے پر بات ہوئی، وزیر قانون
یہ حلف نامہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ مسافر صرف مذکورہ روزگار کے مقام پر کام کرے گا۔ اور غیر قانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کرے گا۔
