اسلام آباد: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا ڈرافٹ منظور کر لیا۔ بل ایوان سے منظور ہونا باقی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے مسودے میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔ اور ترامیم کے ساتھ مسودے کو منظور کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے چند شقوں پر تبدیلی کرنے کا مجھے اور وزیر قانون کو اختیار ہے۔ اور بل ابھی تک ایوان سے منظور ہونا باقی ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کمیٹی اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ اور رپورٹ کل ایوان میں پیش کی جائے گی۔ بل پر ووٹ کب کرانا ہے۔ اور یہ اختیار ایوان کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی تجاویز کے حوالے سے بریک تھرو کل ہو گا۔
اجلاس کے وقفے کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا بلوچستان کی نشستوں میں اضافے اور خیبرپختونخوا کا نام پختونخوا کرنے پر بات ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی ہدایت کے بعد وزیر اعظم کے استثنیٰ کی تجویز واپس ہو گئی ہے۔ جبکہ بلوچستان کی نشستوں میں اضافے اور خیبر پختونخوا کا نام پختونخوا کرنے پر بات ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان رجیم نے وعدوں کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا، ترجمان دفتر خارجہ
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی مقامی حکومتوں کو مکمل خودمختاری کی تجویز پر بات ہوئی ہے۔ اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد پر بھی بات ہوئی ہے۔ مقامی حکومتوں کی مکمل خودمختاری اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد پر وقت لیا گیا ہے۔
