اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بلدیاتی حکومتوں کو با اختیار بنانے کیلیے وفاق کو آئینی ترمیم لانے کی تجویز دے دی۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے تحفظ کے لیے ستائیسویں ترمیم کرنی پڑے تو ضرور کی جائے ، کسی بھی جماعت کی حکومت ہو، مقامی حکومت کو تحفظ ہونا چاہیے، آئینی اختیارات گراس روٹ تک پہنچنا لازمی قرار دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام سےمتعلق پنجاب اسمبلی میں متفقہ قرار پاس کی گئی ہے، امید ہے پارلیمنٹ میں اسے اہمیت دی جائے گی۔
ملک احمد خان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا ایک الگ ٹریک ہے اور اس معاملے پر اب کھل کر بات ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، کچھ مسائل 18ویں ترمیم سے بھی حل ہو چکے ہیں لیکن مقامی حکومتوں کی آئینی حیثیت پر ابہام برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 140-اے ابھی نامکمل ہے، اس میں مقامی حکومتوں کے قیام اور ان کے اوقات کار کے تعین کے لیے واضح قانون سازی ہونی چاہیے۔
اسمبلی میں اراکین کا کردار اور اتفاق رائے انہوں نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے بننے والے کاکس میں اسمبلی کے اسی اراکین شامل ہیں، جن میں اپوزیشن کے پینتیس ارکان بھی شریک ہیں۔ احمد اقبال چوہدری، رانا محمد ارشد اور علی حیدر گیلانی نے اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کیا۔
ملک احمد خان نے کہا کہ کاکس پنجاب اسمبلی میں مقامی حکومتوں کے معاملے پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور تمام جماعتوں نے جمہوری جذبے کے ساتھ اس قرارداد کی تائید کی۔ تاریخی پس منظر اور نظام کی ناپائیداری انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے اب تک مقامی حکومتوں کے حوالے سے درجنوں شقوں پر بحث ہو چکی ہے مگر عملی طور پر نظام مستحکم نہیں ہو سکا۔
ان کے بقول ایک حکومت ختم ہوتی ہے تو نئی حکومت آتے ہی لوکل گورنمنٹ کو ختم کر دیتی ہے، اور پھر تین سال قانون بنانے میں لگ جاتے ہیں۔
انہوں نے پی ایل جی او (PLGO) کے حوالے سے کہا کہ یہ قانون ایک انقلاب تھا، مگر چونکہ فوجی حکومت کے دور میں آیا، اس پر سیاسی حسد پیدا ہوگئی۔ اختیارات کی منتقلی اور عوامی شمولیت ملک احمد خان نے کہا کہ اگر مقامی حکومتیں عوام سے ٹیکس وصول کریں تو وہ براہِ راست اُن کے مسائل حل کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر مجھ سے ٹیکس لیا جائے تو وہ پیسہ میرے علاقے کے سیوریج، صفائی اور قبرستان جیسے مسائل پر خرچ ہونا چاہیے۔
صدرزرداری سے ملک احمد خان کی ملاقات، پنجاب اسمبلی میں قانون سازی پر تبادلہ خیال
بولے کہ جب مقامی حکومتیں نہیں ہوں گی تو عوامی مسائل کون حل کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔
آئینی ترمیم کی ضرورت اور مطالبہ پنجاب اسمبلی کی متفقہ قرارداد میں پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین میں ترمیم کر کے مقامی حکومتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ملک احمد خان نے کہا کہ جیسے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کو آئین میں تحفظ حاصل ہے، ویسے ہی لوکل گورنمنٹ کو بھی آئینی ضمانت ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھااسمبلی آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی، یہ کام صرف پارلیمنٹ کا ہے۔ اس لیے ہم نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ آرٹیکل 140-اے میں مقامی حکومتوں کے وقت کا تعین کیا جائے۔” ملک کی جمہوری صورتحال اور ریاستی معاہدہ ملک احمد خان نے خبردار کیا کہ اگر مقامی سطح پر نمائندگی نہ ملی تو عوام کا جمہوریت پر اعتماد کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
ملک احمد خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں، بشمول پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور پی ٹی آئی، آرٹیکل 140-اے کی اہمیت کو تسلیم کریں تاکہ عوامی مسائل مؤثر طریقے سے حل ہوں اور جمہوریت مضبوط ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ پچیس کروڑ لوگوں کا ملک پندرہ سو لوگوں سے نہیں چل سکتا، ہمیں عوام کے قریب تر نظام حکومت کی ضرورت ہے۔
