سعودی عرب(saudia arab) نے نجی شعبے میں ملازمت کے تمام معاہدوں کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل تصدیق شدہ نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اب ہر روزگار کا معاہدہ دو سرکاری پلیٹ فارمز قویٰ (Qiwa) اورنجز (Najiz) پر رجسٹر اور تصدیق شدہ ہونا لازمی ہوگا۔
گلف نیوز کے مطابق یہ اقدام مملکت کے جاری مزدور اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد شفافیت بڑھانا، ملازمین کے حقوق کا تحفظ اور معاہدوں کو قانونی حیثیت دینا ہے۔
بیرونِ ملک ملازمت کے لیے گریڈ 18 یا 19 افسر کا حلف نامہ لازمی
پہلے صرف “قویٰ” پر رجسٹریشن کافی سمجھی جاتی تھی، تاہم نئے نظام کے تحت معاہدہ خود بخود وزارتِ انصاف کے پلیٹ فارم “نجز” پر بھی قانونی حیثیت حاصل کر لیتا ہے، جس سے معاہدہ عدالتی طور پر نافذ العمل ہو جاتا ہے۔
تنخواہ کی تاخیر پر فوری کارروائی ممکن
نئے نظام کی سب سے اہم خصوصیت قانونی طور پر نافذ شدہ تنخواہ کی شق ہے۔اگر کسی آجر کی جانب سے ملازم کی تنخواہ 30 دن سے زائد تاخیر کا شکار ہو جائے، تو ملازم اب براہِ راست نجز پلیٹ فارم کے ذریعے نفاذِ معاہدہ کی درخواست دے سکتا ہے، اسے پہلے مزدور عدالت یا کسی طویل شکایتی عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ تبدیلی سعودی عرب کے لیبر قوانین میں انقلابی پیش رفت ہے، جو ملازمین کو تیز رفتار انصاف اور آجر کی ذمہ داریوں پر سخت نگرانی فراہم کرے گی۔
معاہدوں میں مزید تفصیلات لازمی
نئے ضوابط کے تحت اب تمام معاہدوں میں درج ذیل تفصیلات شامل کرنا لازمی ہوگا:
آجر اور ملازم دونوں کا رجسٹرڈ قومی پتہ
تنخواہ کی مقررہ ادائیگی کی تاریخ
کنٹریکٹ کی نوعیت (مدت والا یا غیر معینہ مدت)
ملازمت کی تفصیل، عہدہ اور مراعات
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط یا نامکمل معلومات کی صورت میں کمپنیوں کو جرمانے یاورک پرمٹ معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جدید لیبر نظام کی طرف قدم
یہ اقدام رواں سال کے اوائل میں کفالت نظام (کفالا) کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت اب غیر ملکی ملازمین آزادانہ طور پر ملازمت تبدیل کر سکتے ہیں اور بغیر آجر کی اجازت بیرونِ ملک سفرکر سکتے ہیں۔
فیس بک کا نیا فیچر،نوکری کی تلاش اور بھی آسان ہوگئی
تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی حکومت کی یہ تازہ اصلاحات مملکت کو عالمی معیار کے لیبر نظام سے ہم آہنگ کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنے کی جانب اہم قدم ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام سے جہاں آجر کی نگرانی سخت ہوگی، وہیں 13 ملین سے زائد غیر ملکی ملازمین کو بہتر قانونی تحفظ، شفافیت اور انصاف تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔
