بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے ملائیشیا میں ہونے والی آسیان کانفرنس میں اس لیے شرکت نہیں کی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پھر رافیل طیارے گرنے کا ذکر چھیڑ بیٹھیں گے۔
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ پھر سے پاکستان کیساتھ مئی میں ہونے والی جنگ کا قصہ چھیڑیں گے، جس میں جنگ بندی میں ثالثی اور بھارت کے رافیل طیارے گرنے کا ذکر بھی ہوگا۔
مودی ہر آسیان اجلاس میں شامل رہے
مودی اس وقت ریاست بہار کے اہم انتخابی مہم میں مصروف ہیں، اور ان کے قریبی حلقے سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کے کسی غیر متوقع بیان سے انہیں سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔
جلتی پر تیل کا کام اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کے بیان نے کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ “وزیرِاعظم مودی ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں۔”
Indian Prime Minister Narendra Modi stayed away from a regional leaders summit in Malaysia to avoid meeting US President Donald Trump and having a possible discussion about Pakistan https://t.co/IdtNjlgRUt
— Bloomberg (@business) October 28, 2025
مودی کی آسیان کانفرنس میں عدم شرکت غیرمعمولی بات سمجھی جا رہی ہے کیونکہ 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد وہ تمام آسیان اجلاسوں میں شریک رہے، سوائے 2022 کے۔
مودی نے اس بار ورچوئل خطاب کیا، جبکہ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔ روبیو نے کہا کہ “امریکا کے پاکستان سے تعلقات بھارت کی قیمت پر نہیں ہیں۔”
ٹرمپ سے ملاقات کا الٹا نقصان
بلوم برگ نے اپنے ذرائع سے یہ بھی کہا ہے کہ مودی کی ٹیم کو ٹرمپ سے ملاقات میں کسی ’’واضح فائدے‘‘ کی امید نہیں تھی لہذا انہوں نے مفت میں بے عزتی کرانے سے بہتر سمجھا کہ اجلاس میں شرکت ہی نہ کی جائے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ اور مودی کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی نئی دہلی کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے “بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا”، اور کہا کہ انہیں نوبل امن انعام کا مستحق سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان نے ٹرمپ کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے انہیں امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا، جبکہ امریکی صدر نے آرمی چیف عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی تعریف کی ہے۔
بھارت اور امریکہ کے تعلقات پاک بھارت تنازع کے بعد سے کشیدہ ہیں۔ اگست میں امریکا نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے، جن میں سے 25 فیصد روس سے تیل کی خریداری پر جرمانے کے طور پر لگائے گئے۔
تجارتی مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں۔
مودی آئندہ ماہ جوہانسبرگ میں جی 20 اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں امکان ہے کہ اگر تجارتی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو وہ ٹرمپ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اجلاس میں صدر ٹرمپ رافیل طیاروں کا ذکر چھیڑ کر مودی کو شرمندہ کرتے ہیں یا نہیں۔
