امریکی بحریہ کا ایک ہیلی کاپٹر اور ایک لڑاکا طیارہ دو الگ الگ واقعات میں جنوبی بحیرہ چین میں تباہ ہو گئے ہیں۔
بحریہ کے پیسیفک فلیٹ کے مطابق عملے کے تمام 5 ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ دونوں حادثات کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا وقفہ تھا۔
پہلا واقعہ دوپہر 2 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا جب ایک ایم ایچ-60 آر سی ہاک ہیلی کاپٹر، جو “بیٹل کیٹس” اسکواڈرن 73 سے منسلک تھا، معمول کی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔
اسکواڈرن کا مرکز نیول ایئر اسٹیشن نارتھ آئی لینڈ، سان ڈیاگو میں واقع ہے۔ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر عملے کے 3 ارکان کو بحفاظت نکال لیا۔
دوسرا واقعہ 3 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا جب ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ لڑاکا طیارہ، جو “فائٹنگ ریڈ کاکس” اسکواڈرن 22 سے وابستہ تھا، سمندر میں جا گرا۔
Breaking news: Two more US Navy aircraft fell off aircraft carriers into the South China Sea yesterday, US Navy command said. One was a Sea Hawk helicopter and the other an F18 fighter jet.
Both tumbled into the ocean in separate accidents just 30 minutes apart on Sunday… pic.twitter.com/MlVnVvJWxe
— Nury Vittachi (@NuryVittachi) October 27, 2025
طیارے کے دونوں پائلٹوں نے بروقت ایجیکشن کر کے جان بچا لی اور انہیں سمندر سے بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔ یہ اسکواڈرن نیول ایئر اسٹیشن لی مور، کیلیفورنیا میں قائم ہے۔
معمول کی پروازیں، کوئی جانی نقصان نہیں
پیسیفک فلیٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں طیارے ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس نیمٹز سے معمول کی پروازوں پر تھے۔ تمام متاثرہ اہلکار محفوظ اور مکمل ہوش و حواس میں ہیں۔
South China Sea – On October 26, 2025 at approximately 2:45 p.m. local time, a U.S. Navy MH-60R Sea Hawk helicopter, assigned to the “Battle Cats” of Helicopter Maritime Strike Squadron (HSM) 73 went down in the waters of the South China Sea while conducting routine operations
— U.S. Pacific Fleet (@USPacificFleet) October 26, 2025
امریکی محکمہ دفاع نے اس بارے میں تبصرہ بحریہ پر چھوڑ دیا ہے، جبکہ نیوی حکام کی جانب سے اتوار کی رات تک کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔
حادثے اور ٹرمپ کا دورہِ ایشیا
واقعات کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوب مشرقی ایشیا کے دورے پر ہیں۔ وہ اتوار کو ملائیشیا پہنچے، جہاں سے وہ جاپان اور جنوبی کوریا جائیں گے۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تباہ ہونے والے طیارے صدر ٹرمپ کے دورے سے متعلق کسی مشن میں مصروف تھے یا نہیں۔
