اسلام آباد: حکومت نے گندم خریداری کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے رواں سال کے لیے عبوری گندم پالیسی کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی۔
ذرائع وزارت فوڈ سیکیورٹی کے مطابق گندم کی عبوری پالیسی کی سفارشات آئندہ ہفتوں میں وفاقی کابینہ کو پیش کر دی جائیں گی۔ جبکہ حکومت 6.25 ملین میٹرک ٹن گندم خریدے گی۔
وفاق کی جانب سے 1.5 ملین ٹن گندم خریدی جائے گی۔ جبکہ پنجاب 2.5 ملین ٹن گندم خریدے گا۔ سندھ ایک ملین ٹن اور خیبرپختونخوا 7.5 لاکھ ٹن جبکہ بلوچستان 5 لاکھ ٹن گندم خریدیں گے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں کاشتکاروں سے براہِ راست گندم کی خریداری نہیں کریں گی۔ بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتیں نجی شعبے کے ذریعے گندم خریدیں گی۔ نجی سیکٹر رواں سال گندم خریداری کا عمل انجام دے گا۔
حکومت نے گندم کی انڈیکیٹو قیمت خرید 3 ہزار 500 روپے فی من مقرر کردی۔ تاہم اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھے گی تو پاکستان میں بھی قیمت بڑھا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سمیت کئی ممالک میں پاکستانی انڈوں کی برآمدات میں زبردست اضافہ
ذرائع نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط پر گندم کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی گئی۔ اور گندم کی صوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
