اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اہم بیان سامنے آ گیا۔
اسرائیلی دورہ مکمل کرکے واپس جاتے ہوئے تل ابیب ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے اسے سیاسی حربہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بے معنی علامتی ووٹ تھا، جس کا کوئی عملی اثر نہیں، اگر یہ سیاسی حربہ تھا تو یہ بہت ہی بیوقوفانہ تھا ، میں ذاتی طور پر اسے غزہ امن معاہدے کی توہین سمجھتا ہوں۔
مغربی کنارے ضم کرنے پر اسرائیل کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم نہیں کیا جائے گا اور یہ مؤقف برقرار رہے گا تاہم اگر اسرائیلی پارلیمنٹ علامتی ووٹ دینا چاہتی ہے تو دے دے لیکن ہم اس سے بالکل خوش نہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے غیر قانونی بل کا پہلا مرحلہ منظور کیا تھا۔
ٹرمپ کی اہل قیادت سے دنیا میں امن قائم ہوا، امریکی نائب صدر
پاکستان، سعودی عرب، ترکیے، او آئی سی اور عرب لیگ سمیت 17 ممالک اور تنظیموں نے مغربی کنارے پر قبضے کے غیرقانونی بل کی اسرائیلی کینسیٹ سے منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔