تیونس کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 40 افراد ہلاک ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تیونس کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی کشتی میں 70 افراد سوار تھے۔ اور تقریباً تمام افراد کا تعلق افریقی ملک سے تھا۔
دو روز قبل اٹلی کے قریب تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئی تھیں۔ جن میں پاکستانیوں سمیت 100 افراد سوار تھے۔
ایک کشتی میں پاکستانی، اریٹیریا اور سومالیہ کے 85 باشندے سوار تھے۔ اس حادثے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ 11 کو بچا لیا گیا تھا۔
دوسری کشتی میں 35 افراد سوار تھے۔ حکام نے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 24 تاحال لاپتہ ہیں۔
واضح رہے دو ماہ قبل بھی جنوبی اٹلی کے جزیرے لیمپیڈوسا کے قریب 2 کشتیوں کے حادثات میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 60 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی صدر کا ہیلی کاپٹر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گیا، دھکا لگا کر نکالنے کی ویڈیو وائرل
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے اب تک 32 ہزار سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کے دوران اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ صرف 2025 کے دوران مرکزی بحیرہ روم کے راستے میں 900 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
