امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور ارب پتی کاروباری شخصیت جیرڈ کشنر نے غزہ کے حالیہ دورے کے بعد کہا ہے کہ “ایسا لگتا ہے جیسے اس علاقے پر ایٹم بم گرایا گیا ہو”۔
امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے جیرڈ کشنر نے کہا کہ “جب میں نے دیکھا کہ لوگ واپس جا رہے ہیں، میں نے آئی ڈی ایف سے پوچھا کہ یہ کہاں جا رہے ہیں؟ جواب ملا کہ یہ اپنے انہی علاقوں میں جا رہے ہیں جہاں ان کے گھر تھے، لیکن اب صرف کھنڈرات باقی ہیں۔ وہاں جا کر یہ لوگ خیمے لگائیں گے۔”
کشنر نے مزید کہا کہ یہ واقعی افسوسناک ہے، کیونکہ ان کے پاس اور کہیں جانے کی جگہ نہیں۔
تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیلی کارروائی کو نسل کشی سمجھتے ہیں، تو ان کا جواب تھا کہ “نہیں، بالکل نہیں۔ یہ ایک جنگ ہے جو لڑی جا رہی ہے۔”
اس موقع پر مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے، جنہوں نے کشنر کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا: “یہ جنگ تھی، نسل کشی نہیں۔”
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کیا کہتی ہیں؟
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے 35 قانونی ماہرین پر مشتمل ایک گروپ، عالمی ماہرینِ نسل کشی کی تنظیم (IAGS)، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس-اسرائیل سمیت کئی نمایاں تنظیمیں اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو واضح طور پر فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دے چکی ہیں۔
ستمبر 2025 میں IAGS نے ایک متفقہ قرارداد میں کہا تھا کہ “اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے”، جبکہ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں باقاعدہ مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
‘اب فلسطینیوں کو پھلنے پھولنے دیں’، کشنر کا اسرائیل کو پیغام
انٹرویو کے دوران جیرڈ کشنر نے اسرائیلی قیادت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ساتھ گھلنا ملنا چاہتا ہے، تو اسے فلسطینیوں کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔”
کشنر کے اس بیان پر صہیونی انتہا پسند حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
جب پروگرام میں غزہ کی تعمیر نو سے متعلق سوالات کیے گئے تو کشنر اور وٹکوف نے بتایا کہ عرب ریاستیں اور کچھ یورپی ممالک اس عمل میں مالی امداد فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور بین الاقوامی فورس کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے جو غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔
نیتن یاہو اور کابینہ اجلاس کی اندرونی باتیں
جب پروگرام کی میزبان لیسلی اسٹال نے پوچھا کہ کیا یہ دونوں نیتن یاہو کی کابینہ میٹنگ میں اس کے دونوں طرف “نگہبان” کے طور پر بیٹھے تھے۔ وٹکوف نے اس کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ دعوت نیتن یاہو کی طرف سے ایک “دوستانہ اشارہ” تھا۔
.@jaredkushner: “No reconstruction funds will go into Hamas controlled areas”
Gaza will remain a pile of rubble until Hamas lay down their arms.
— Dr. Eli David (@DrEliDavid) October 21, 2025
اس دوران وٹکوف نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسرائیلی وزیر بن گویر کے ساتھ ان کا تلخ مکالمہ ہوا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ “بن گویر کا غصہ اکتوبر 7 کے حملوں اور یرغمالیوں کی حالت کی وجہ سے جائز تھا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ مصری شہر شرم الشیخ میں منعقدہ امن کانفرنس کے دوران انہوں نے حماس کے مذاکرات کار خلیل الحیہ سے ان کے بیٹے کی شہادت پر تعزیت بھی کی تھی۔
