امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کی امہرسٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے انسانی دماغ کی طرح کام کرنے والے مصنوعی نیوران تیار کئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ مصنوعی نیوران 0.1 وولٹ کی کم ترین توانائی پر فعال رہتا ہے، جو کہ انسانی دماغ کے قدرتی نیوران کے وولٹیج کے برابر ہے، اس سے قبل بنائے گئے نیوران ماڈلز میں زیادہ توانائی ہوتی تھی لیکن کارکردگی بھی محدود ہوتی تھی۔
لگڑبگے کی تصویر نے وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دی ایئر 2025 جیت لیا
سائنس دانوں کے مطابق اس ایجاد میں بیکٹیریا سے حاصل کردہ نینو وائر پروٹین استعمال کی گئی ہیں، جن کی مدد سے دماغی خلیوں کی نقل ممکن ہوئی، یہ ٹیکنالوجی توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ جدید بائیو الیکٹرانک آلات کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مصنوعی خلئے ایسے ویئریبل سینسرز اور جسم سے منسلک سمارٹ آلات میں استعمال کئے جا سکیں گے جو جسمانی سگنلز پر براہِ راست ردعمل ظاہر کرتے ہیں، اس سے توانائی کا زیاں کم ہوگا اور الیکٹرانک سرکٹس مزید سادہ اور مؤثر بنائے جا سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے امتزاج کی نئی راہیں کھول سکتی ہے، جس کے ذریعے انسان اور مشین کے درمیان تعلق مزید قریب ہو جائے گا۔
