محمد رضوان نے اپنے ٹیسٹ کیریئر اور اسپنرز کے لیے سازگار وکٹوں کے لیے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر کنڈیشن کے مطابق بلے باز کو ہی کوئی حل نکالنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چیمپیئن شپ کے سائیکل میں ہم نے ٹیسٹ چیمپئنز لیگ میں انگلینڈ کو ہرایا وہ ہمارے لیے اعزاز تھا، اس چیمپیئن شپ میں بھی ہمارے پاس اچھا موقع ہے، امید ہے کہ اچھی سیریز ہو گی۔
کشیدگی، پاک افغان سری لنکا ٹرائینگولر سیریز سوالیہ نشان بن گئی
میرا ذاتی خیال ہے کہ جو کنڈیشن آپ دوسروں کے لیے بناتے ہیں وہ آپ کے لیے بھی اتنی ہی چیلنجنگ ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ جب باہر کھیلنے جاتے ہیں تو صرف وکٹ پر باؤنس کا ہی فرق ہوتا ہے۔
محمد رضوان ( Muhammad Rizwan ) نے کہا کہ ہر کنڈیشن کے مطابق بلے باز کو ہی کوئی حل نکالنا پڑتا ہے خواہ سپن پچ ہو یا سوئنگ ۔پہلے پاکستان کے بارے میں تاثر تھا کہ یہاں کے ٹریکس پر 400 سے 500 رنز بنیں گے۔
شبھمن گل نے ٹنڈولکر اور کوہلی کا ریکارڈ توڑ دیا
اب کیونکہ اچانک سے اسپن وکٹیں بن رہی ہیں تو بیٹر کو اچھی کارکردگی کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے، ا سپن وکٹ پر ہمیشہ اسپنر کو ہی مدد نہیں ملتی جب پیچز سخت ہوتے ہیں تو سیمرز کو بھی مدد ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ٹریکس پر انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلرز نے وکٹیں حاصل کیں، ان کا کہنا تھا مجھے پہلا ٹیسٹ جس میں پہلی گیند پر ہی آؤٹ ہوا تھا نہیں بھولے گا۔
