امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم سے امن سے متعلق اہم امور پر بات ہوئی ہے،صرف غزہ نہیں مشرق وسطیٰ میں امن کی بات کی،غزہ امن معاہدے پر رضامند ہونے کے لیے نیتن یاہو کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ نیوزکانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا آج امن کیلئےبڑا دن ہے،یورپی سربراہ حیران تھے، پوچھ رہے تھے کیا واقعی ایسا ہو رہا ہے۔ہم غزہ امن معاہدے کے انتہائی قریب ہیں،مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے آج ہم جمع ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دوحہ حملے پر قطری وزیر اعظم سے معافی مانگ لی
ترک اور انڈونیشیا کے صدور میرے ساتھ ہیں ،حماس نے معاہدہ تسلیم کیا تو یرغمالی فوری رہا کرنے ہوں گے جو کہ خود ایک جنگ بندی ہے ،سنا ہے حماس بھی جنگ بندی چاہتا ہے ،اسرائیلی وزیراعظم نے میرے امن معاہدے کو تسلیم کرلیاہے۔
عرب اور مسلم ممالک کو حماس سے نمٹنا ہو گا ،حماس 72گھنٹے کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کرےگا،عرب اور مسلم ممالک حماس سے نمٹیں گے ،فریقین غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے ایک ٹائم لائن پر متفق ہوں گے۔
وزیراعظم پاکستان نے ہمارے معاہدے کی مکمل حمایت کی ہے،پاکستان کے وزیراعظم نے ہمارے نکات کا خیرمقدم کیا ہے،وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے میرے امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔
غزہ سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے انٹرنیشنل بورڈ قائم ہوگا ، جو بورڈ آف پیس کہلائے گا،برطانوی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، دیگر نام آئندہ دنوں میں جاری کیے جائیں گے۔
آئی فون 17 میں ایپل انٹیلی جنس فیچر میں بگ کی اطلاعات
اگر حماس معاہدہ مسترد کر دے تو اسرائیل کو حماس کے خاتمے کیلئے میری مکمل پشت پناہی حاصل ہوگی،فلسطین میں نئی حکومت فلسطینیوں اور دنیا بھر کے ماہرین پر مشتمل ہوگی،مجھے لگتا ہے کہ ہمیں حماس کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔
نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ اس خطے میں خطرہ ختم ہو جائے،نیتن یاہو فلسطینی ریاست کےواضح خلاف ہیں،کچھ ممالک نے ناسمجھی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے،بہت سے فلسطینی سکون سے جینا چاہتے ہیں۔
اسرائیل کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی ، اسرائیل کو ہماری پشت پناہی حاصل ہوگی،دنیا کے کسی لیڈر کے اسرائیل سے اتنے اچھے تعلقات نہیں رہے جتنے میرے ہیں ،امید ہے ایک دن ایران ابراہم معاہدے کا رکن بنے گا.
میرے امن معاہدے کو عرب مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہے،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے،قطری وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ،بات تعمیری اور مثبت رہی،قطری وزیراعظم عظیم انسان ہیں جو امن چاہتے ہیں ،امریکا ، اسرائیل اور قطر مل کر امن پر کام کریں گے۔
احتجاج حق ہے مگر انتشار سے معیشت کو نقصان ہوتا ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر
عرب اور مسلم ممالک مکمل طورپر آگے بڑھ کر امن کیلئے اقدامات کرنے کو تیار ہیں ،امن قائم کرنا آسان نہیں ہوتا ، اس لیے یہ معاملہ صدیوں سے چلتا آ رہا ہے ،اسرائیلی سمیت تمام ممالک غزہ میں امن چاہتے ہیں ، حماس کو تجاویز ماننی ہوں گی۔
