خانہ کعبہ کے امام شیخ صالح بن حُمید کو سعودی عرب کا نیا مفتی اعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔
وہ علماء کی سینئر کونسل کے سربراہ بھی ہوں گے۔ شاہی عدالت کے مطابق ان کی تقرری سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے انتقال کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
شیخ صالح بن حمید 1950 میں سعودی عرب کے صوبہ قصیم کے شہر بریدہ میں پیدا ہوئے، وہ 1984 سے خانہ کعبہ کے امام کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں،انہیں میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں خطبہ حج کی امامت کرنے کی بھی سعادت حاصل ہے۔
شیخ صالح بن حُمیدنے کم عمری میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا تھا، انہوں نے ابتدائی تعلیم بریدہ میں حاصل کی ثانوی تعلیم مکہ مکرمہ میں مکمل کی، شیخ صالح نے جامعہ ام القریٰ سے شریعت میں بی اے، پھر فقہ و اصول الفقہ میں ایم اے اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
وہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے ایسے امام ہیں جنہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے ساتھ 1403 ہجری میں مسجد الحرام میں امامت کا اعزاز حاصل ہوا۔
سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ انتقال کر گئے
اب انہیں سعودی عرب کے سب سے بڑے دینی و فقہی منصب پر فائز کردیا گیا ہے، ان کی ذمہ داریوں میں علما کی سینئر کونسل اور مستقل کمیٹی برائے اسلامی تحقیق کی سربراہی، مذہبی و فقہی رہنمائی فراہم کرنا، اہم مسائل پر مستند فتوے دینا اور دینی گفتگو و بیانیے کو منظم کرنا شامل ہوگا۔
