اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےمانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس میں شرح سود کو11فیصد پرمستحکم رکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ہوا،جس میں آئندہ دوماہ کیلئےبنیادی شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ مسلسل تیسری بار برقرار رکھا ہے۔یاد رہے کہ جون اور جولائی کے لیے بھی اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔


صدرفیڈریشن چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریزعاطف اکرام شیخ نے شرح سود پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے ، مہنگائی کے تناسب سے شرح سود کو زیادہ سے زیادہ 6 سے 7 فیصد پر ہونا چاہیے۔
پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے، کاروبار کی بہتری کیلئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں ہونا چاہیے، شرح سود اگر سنگل ڈیجٹ میں ہوتی تو پیداواری لاگت کم ہوتی، پیداواری لاگت میں کمی سے مہنگائی میں کمی آتی ہے ۔
شرح سود زیادہ رکھنا کرنسی سرکولیشن کو متاثر کرتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی شرح سود میں کمی کی نوید سنائی تھی۔موجودہ صورتحال میں شرح سود کو برقرار رکھنے سے کاروباری ماحول شدید متاثر ہو گا۔
