سپریم کورٹ رولز 2025 شائع کردئیے گئے اس سلسلے میں عوام سے مزید تجاویز بھی طلب کرلی گئی ہیں۔
جاری اعلامیہ کے مطابق رولز پر عملدرآمد میں مشکلات پر سفارشات کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ، کمیٹی کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کریں گے۔
ہم نیوز کے سینئر اینکر پرسن منصورعلی خان کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا
جسٹس عرفان سعادت ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی کمیٹی کا حصہ ہونگے،مزید تجاویز ججز، وکلا ، فریقین مقدمہ اور عوام سے طلب کی گئی ہیں۔
موصولہ تجاویز فل کورٹ کے سامنے نئے عدالتی سال کے آغاز پر پیش ہوں گی،تجاویز رجسٹرار سپریم کورٹ، اسلام آباد کو بھیجی جا سکتی ہیں۔
نئے رولز کیا ہیں؟
سپریم کورٹ کے 1980 کے رولز تبدیل کرکے نئے رولز 2025 جاری کر دیئے گئے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ رولز 2025 کے تحت نوٹسز، احکامات، تصدیق شدہ نقول اور درخواستیں ڈیجیٹل صورت میں جاری کی جائیں گی جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کی اجازت ہو گی۔
اس کے علاوہ حلف نامے اپوسٹیل کے ذریعے تصدیق کیے جا سکیں گے، فریقین اور وکلا اپنے فون نمبر ، ای میل، پتے اور ڈیجیٹل ایپ کی تفصیلات فراہم کریں گے جبکہ بذریعہ ڈاک بھیجے گئے عدالتی دستاویزات قبول نہیں ہوں گی۔
فتنہ فساد پھیلانے والی ذہنیت کے خلاف جنگ بھی جیتیں گے،مریم نواز
نئے رولز میں کئی دہائیوں بعد عدالتی فیس اور وکلا و عملے کے اخراجات میں ترمیم کی گئی، فوجداری درخواستوں پر فیس معاف اور جیل سے دائر درخواستوں کی نقول مفت کر دی گئی ہیں جبکہ رجسٹرار کو اختیار ہے کہ سزائے موت کے کیسز میں ریاستی خرچ پر وکیل مقرر کرے۔
رولز کے تحت ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے امتحانات ختم کر دیئے گئے ہیں ، اب پانچ سالہ تجربہ رکھنے والے وکلا براہِ راست اے او آر بن سکیں گے، دیوانی مقدمات میں 30 دن میں سکیورٹی برائے اخراجات جمع نہ کرانے پراپیل کی اجازت ازخود ختم ہو جائے گی۔
