پرانے اور ناکارہ سرکاری پاورجنریشن پلانٹس کا ملبہ 46ارب 73کروڑ روپے میں فروخت کر دیا گیا۔
پاور ڈویژن کے اعلامیہ کے مطابق 16 یونٹس کے ملبے کی فروخت کیلئے ریزرو پرائس 45ارب 81کروڑ 70لاکھ روپے مقرر کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق ریزرو پرائس اسٹیٹ بینک کے ماہرین نے مقرر کی تھی۔ پاور ڈویژن کے اعلامیہ کے مطابق سرکاری تھرمل پلانٹس میں جامشورو بلاک ون ٹو، گدو ٹو، سکھر کے پلانٹس شامل ہیں۔
سرکاری تھرمل پاور پلانٹس میں کوئٹہ، مظفر گڑھ بلاک ون اور بلاک ٹو فیصل آباد شامل ہیں۔
حکومت بعض پاور پلانٹس سے بجلی 750 روپے فی یونٹ خرید رہی ،گوہر اعجاز
اعلامیہ کے مطابق سرکاری تھرمل پاور پلانٹس کے ملازمین کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں تعینات کیا ہے، ناکارہ سرکاری پاور پلانٹس کے ملبے پر سالانہ اربوں روپے کا خرچہ ہو رہا تھا۔
اعلامیہ کے مطابق ناکارہ سرکاری پاور پلانٹس کے ملبے کی فروخت کا فائدہ بجلی صارفین کے بلوں میں بھی ہو رہا ہے، ان تمام سرکاری پلانٹس کے کپیسٹی چارجز بجلی کے بلوں میں شامل تھے۔
