محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا نے دریائے سوات میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر محکمہ آبپاشی نے رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق 27 جون کو خوازہ خیلہ میں دریا کا بہاؤ چند گھنٹوں میں 6738 سے بڑھ کر 77782 کیوسک ہوا، محکمہ آبپاشی نے ریلے سے متعلق وارننگ تمام متعلقہ اداروں کو صبح 8 بجکر 41 منٹ پر جاری کی، ڈی سی سوات، چارسدہ اور نوشہرہ کو بھی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔
دریائے سوات کے کنارے تمام ہوٹلز و تفریحی سرگرمیاں بند، دفعہ 144 نافذ
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ پر حکام کو دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل اپڈیٹس دیتے رہے ، واقعے کے روز ساڑھے 10 بجے سیلابی انتباہ جاری کیا گیا ، ڈی سی سوات، پی ڈی ایم اے اور اے ڈی سی ریلیف کو بار بار الرٹس بھیجے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریکارڈ سے واضح ہے کہ محکمہ آبپاشی نے بروقت ایمرجنسی کی اطلاع دی، سیاح دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے پھنس گئے۔
سانحہ سوات :صوبائی انسپکشن ٹیم کی تحقیقات جاری
رپورٹ میں سیاحتی علاقوں میں داخلہ محدود کرنے ، ہوٹل مالکان کو پابند بنانے اور مدین اور کالام میں اضافی ٹیلی میٹری گیجز لگانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کو سیاحوں کو محفوظ مقام تک محدود رکھنے کے لیے پالیسی بنانے کی تجویز بھی کی گئی ہے۔
