اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بجٹ 26-2025 پاکستان کی معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام اور ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا عملی خاکہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جس وقت 2022 میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس وقت ملک مکمل اقتصادی بحران کا شکار تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر ناپید، کرنسی غیر مستحکم، اور ترقیاتی بجٹ کی ادائیگی ممکن نہ تھی۔ آج ہم وہی ملک ہیں جو اپنے قرضے، دفاعی اخراجات اور ترقیاتی ترجیحات خود پورے کر رہا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ معاشی استحکام ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مشکل مگر دوراندیش فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ حکومت نے غیر ضروری سبسڈیز کی ازسر نو ترتیب، توانائی نرخوں کی اصلاح، مالیاتی نظم و ضبط اور عالمی مالیاتی اداروں سے شفاف معاملات کے ذریعے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔
انہوں نے کہا کہ اب یہی کوششیں ہمیں دوبارہ ترقی کی راہ پر ڈال رہی ہیں۔ فیچ کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، بڑھتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات زر کا 38 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچنا اور 2.7 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف۔ یہ تمام عوامل پاکستان کی معاشی بحالی کے واضح ثبوت ہیں۔
ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی دفعہ 400 ارب ڈالر کی حد عبور کر گیا، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجٹ 26-2025 صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ “اُڑان پاکستان” کے وژن کی عملی تعبیر ہے۔ یہ بجٹ ترقی، مساوات، برآمدات، ڈیجیٹل پاکستان اور ماحول دوست معیشت جیسے 5 اہم شعبوں پر مبنی ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگرام 3.2 کھرب روپے پر محیط ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی اخراجات کا یہ ہم آہنگ ماڈل پاکستان کی مشترکہ ترقی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 600 ارب روپے سے بڑھا کر 716 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں نرمی دی گئی ہے۔ جبکہ مہنگائی کے اثرات سے بچاؤ کیلئے کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی سبسڈیز فراہم کی جا رہی ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ جن میں پمز میں 6600 نئے بیڈز، شیخ زید اسپتال کی اپ گریڈیشن اور اسلام آباد میں نیا tertiary اسپتال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نئی یونیورسٹی کیمپس، دانش اسکول اور جدید ڈیجیٹل سہولیات کے حامل تعلیمی ادارے بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں پاکستان پہلی بار جامع منصوبہ بندی کے تحت خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 12 نئے ہائیڈرو پاور منصوبے، 1200 میگاواٹ کا سندھ سولر پروجیکٹ۔ شمال اور جنوب کو جوڑنے والی ٹرانسمیشن لائنز اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی نئی شرائط جیسے اقدامات پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں مدد دیں گے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد ملک کو معاشی، ماحولیاتی اور سماجی لحاظ سے مستحکم بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مالی مشکلات کے باوجود حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں اعلیٰ ترجیحات کو مدنظر رکھا۔ 367 غیر مؤثر منصوبوں کو خارج کر کے 2730 ارب روپے کی بچت کی گئی۔ اور 801 منصوبے ان کے اثرات اور روزگار کے مواقع کے اعتبار سے منتخب کیے گئے۔ اس ضمن میں بلوچستان، ضم شدہ اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر جیسے پسماندہ علاقوں کو خصوصی توجہ دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری ترقی کا حق دار ہے۔ اور یہ بجٹ اسی قومی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے بحران سے نکلنے کا ہنر سیکھا ہے۔ اور اب ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کا وقت ہے۔ ہم ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ایسا پاکستان جو خود کفیل ہو، منصفانہ ہو، جدید ہو، اور سب کے لیے یکساں ترقی کا ضامن ہو۔
وفاقی وزیر نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ بجٹ میں تنقید کی گنجائش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اتنی جامع اور توازن پر مبنی مالیاتی پالیسی دی گئی۔ جس میں معاشی ترقی، سماجی تحفظ، اور ادارہ جاتی اصلاحات کو بیک وقت ترجیح دی گئی ہے۔
