وزیراعظم شہباز شریف نے دوشنبے میں تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی،دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کےفروغ پر تبادلہ خیال کیا،اس کے علاوہ علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کی گئی،وزیراعظم نے تاجک صدر کو جنوبی ایشیا کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جولائی 2024 میں دور ہ تاجکستان میں دوطرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھی،وسط ایشیائی ملکوں کیساتھ روابط کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔
بجٹ میں سولر پینل پر مزید کوئی نیا ٹیکس نہیں لگارہے،چیئرمین ایف بی آر
سی پیک کو وسطی ایشیا تک توسیع دینا چاہتے ہیں،دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ،تجارت، توانائی، دفاع، سیکورٹی اور علاقائی رابطوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں کاسا1000 منصوبے کوجلد ملکر مکمل کرنے کے عزم کااعادہ کیا گیا،وزیراعظم نے پاک تاجک مشترکہ کمیشن کے فیصلوں پر عملدرآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں جولائی تا دسمبر معمول سے زیادہ بارش متوقع
ملاقات میں دفاع و سلامتی اور انسداد دہشتگردی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،منشیات و انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور دیا گیا،تاجک صدر نے علاقائی امن میں وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کی تعریف کی۔
