حکومت نے کنونشن میں شرکت کے لیے آنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو ریاستی مہمان کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے استقبال کیلئے ایئرپورٹس پر خصوصی انتظامات کیے گئے، کنونشن میں آنے والوں کو مکمل پروٹوکول دیا جائے گا۔
وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایت پر یہ تمام انتظامات اس عزم کے ساتھ کیے جا رہے ہیں کہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ پاکستان ان کا اپنا گھر ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں نے چھ ماہ میں تقریباً 18 ارب ڈالر وطن بھیجے
اوورسیز پاکستانیز کنونشن ایک ایسا فورم فراہم کرے گا جہاں بیرون ملک پاکستانی، حکومتی نمائندگان اور قومی ادارے ایک ہی چھت تلے اکٹھے ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سرکاری اداروں کے سہولتی کائونٹرز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو ایک ہی مقام پر معلومات، رہنمائی اور خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
وزارت کے مطابق اوورسیز کمیونٹی کو پاکستان کے ترقیاتی عمل میں موثر کردار ادا کرنے کی دعوت دی جائے گی، اور ان کے لیے موجود سہولیات اور پالیسیوں میں بہتری کے لیے تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں سے زیادتی برداشت نہیں ، پاسپورٹ بلاک ہونے کی تحقیقات کی جائیں ، چوہدری سالک
وزارت نے بتایا کہ پاکستان کے باسی جہاں کہیں بھی بستے ہوں، وہ دل سے پاکستانی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نہ صرف پاکستان کے حقیقی سفیر ہیں بلکہ ان کی ترسیلات زر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حکومت ان کے جذبہ حب الوطنی، قربانیوں اور ملک سے غیر متزلزل وابستگی کو سلام پیش کرتی ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ہمارے دلوں کے قریب ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود، سہولت کاری، اور انہیں پاکستان سے جوڑنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ اسی جذبے کے تحت پہلا اوورسیز پاکستانیز کنونشن آج 13 تا 15 اپریل اسلام آباد میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ کنونشن کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو گلے لگانا، ان کے تحفظات سننا، اور ان کی تجاویز کی روشنی میں پالیسی سازی کو بہتر بنانا ہے۔
