پشاور: خیبرپختونخوا میں پیشہ ورانہ گداگری کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا ویگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبیلیٹیشن ایکٹ کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق قانون سازی کا مقصد بچوں، معذور افراد سے جبراً بھیک منگوانے اور استحصال پر مبنی مجرمانہ سرگرمیوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ جبکہ مجوزہ قانون میں چائلڈ اینڈ فورسڈ بیگری، پیشہ ورانہ گداگری، وگرینسی اور دیگر سرگرمیوں کی واضح درجہ بندی کی جائے۔
بچوں، معذور اور نشے کے عادی افراد کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنے کے خلاف سزاوں کا تعین کیا جائے۔ اور پیشہ ورانہ گداگری کو فروغ دینے والے گروہوں سے تعاون کرنے یا انہیں پناہ دینے کو جرم قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، وزیر اعلیٰ بلوچستان
مراسلے میں کہا گیا کہ شہریوں کی نقل وحرکت میں رکاوٹ بننے یا انہیں ہراساں کرنے والے پیشہ ور بھکاریوں کے لیے بھی سزا کا تعین کیا جائے۔ اور مجرمان کے خلاف موقع پر جرمانے عائد کرنے اور سمری ٹرائلز کے اختیارات شامل کیے جائیں۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو مراسلے میں کہا گیا کہ بھیک مانگنے کے عادی بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے حوالے کیا جائے گا۔
