بجلی چوری پر اب فیڈر کے بجائے متعلقہ ٹرانسفارمر بند ہو گا، اویس لغاری

owais laghari

وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ بجلی چوری پر اب فیڈر کے بجائے متعلقہ ٹرانسفارمر بند ہو گا۔

بجلی کی قیمتوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کر رہی ہے ، 36 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے 3,696 ارب روپے کا بوجھ کم ہوا ہے ، دوسرے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، الیکٹریسٹی پالیسی کے تحت آئندہ 10 سالوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ، 6 سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا اور آئندہ سالوں میں زیرو پر لایا جائے گا،تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے بریفنگ میں اس امید کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں آئندہ تین سے چار سالوں میں بجلی کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی آئے گی جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں بجلی کی پیداواری لاگت ، گردشی قرضے اوربجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی ناقص کارکردگی ایک بڑا مسئلہ ہے،مستقبل کے لیے مہنگی بجلی نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، الیکٹریسٹی پالیسی کے تحت آئندہ 10 سالوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، ایک سے دو ہفتے میں پلان وزیراعظم کو پیش کر دیں گے، رحیم یار خان منیاری ٹرانسمیشن لائن کو نجی شعبے کی شراکت سے مکمل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت چائنیز پلانٹس میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی، زرمبادلہ ، شرح سود، ایندھن کی قیمتیں ، مہنگے پاور پلانٹس اور ٹرانسمیشن پلاننگ کی کمی سمیت معاشی اتار چڑھائو نے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا۔

100 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کیلئے بجلی کتنی سستی ہوئی؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

انہوں نے کہا کہ ٹرانسمیشن میں رکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں صارفین کو سستی بجلی بھی فراہم کی جا سکتی ہے، ٹرانسمیشن سسٹم کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی جس سے بجلی کے نرخوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے، اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی مرحلہ وار نجکاری کی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں تین ڈسکوز اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں لاہور، ملتان اور ہازیکو الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد، سکھر اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے لیے رعایتی ماڈل اپنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئٹہ اور قبائلی الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کو بہتری کے لیے برقرار رکھا جائے گا اور انہیں مینجمنٹ کنٹریکٹ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 27000 زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کرنے کے لیے 55 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گڈو اور نندی پور پاور پلانٹس کی نجکاری بھی جاری ہے، پاور پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کمپنی قائم کی گئی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر فعال جینکو کو بھی ختم کیا جا رہا ہے، آئندہ 6 سالوں میں 2.4 ٹریلین روپے کا گردشی قرضہ ختم کر دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے تحت لگائے گئے پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے میں تبدیل کرنے اور ان پلانٹس کے لیے قرضوں کی ری پروفائلنگ کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں