حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا معافی کیلئے امریکی صدر جوبائیڈن کو خط لکھ دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کے کیس کی سماعت کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال عدالت میں پیش ہوئے۔
عافیہ صدیقی کی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کیلئے رحم کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی سزا معافی کے لیے امریکی صدر کو خط لکھ دیا ہے۔
وزیراعظم نے امریکی صدر کو لکھا ہے کہ آپ کو ہمیشہ پاکستان اور عوام کا دوست پایا، کیری لوگر بل کی 15سال قبل منظوری میں آپکا کردار یاد ہے۔
خط میں کہا گیا کہ میں آپکی توجہ اہم معاملے کی طرف دلانا چاہتا ہوں، عافیہ صدیقی 2010 سے امریکی جیل میں ہیں ، انہیں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے 86 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے، وہ 16سال قید کاٹ چکی ہیں۔
امریکہ کا ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو عافیہ صدیقی سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار
شہباز شریف نے لکھا کہ بطور وزیراعظم معاملے میں مداخلت میری ذمہ داری ہے، آپ انسانی ہمدرد ی کی بنیاد پر عافیہ صدیقی کی سزا معاف کر کے رہائی کا آرڈر کریں، عافیہ صدیقی کی فیملی اور لاکھوں پاکستانی میرے ساتھ آپکی عنایت کے منتظر ہیں۔
