پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ارتھ ڈے منایا گیا،جس کا مقصد ماحول کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ارتھ ڈے سیارہ بمقابلہ پلاسٹک کے عنوان سے منایا گیا جس کا مقصد 2040ء تک پلاسٹک کی پیداوار میں 60 فیصد کمی لانا ہے، 1950ء کی دہائی میں دنیا میں پلاسٹک کی پیداوار 20 لاکھ ٹن تھی جو اب 450 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے۔
ضمنی انتخابات کے نتائج مسترد، سنی اتحاد کونسل کا جمعہ کے روز بھر پور احتجاج کا اعلان
اقوام متحدہ کی جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 33 لاکھ ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق پلاسٹک زمین کو تیزی سے آلودہ کر رہا ہے اور کلائمیٹ چینج جیسے خطرے کی ایک بڑی وجہ بھی پلاسٹک ہی ہے، پلاسٹک انسانوں کے علاوہ سمندری حیات کیلئے بھی انتہائی نقصان دہ ہے اور یہ بلاواسطہ طور پر ہمارے جسم کا حصہ بن رہا ہے۔
پلاسٹ سے چھٹکارا پانے کیلئے لازم ہے کہ جس حد تک ہو سکے اس کے استعمال پر قابو پایا جائے اور اگر استعمال ناگزیر ہو تو دوبارہ قابل استعمال پلاسٹک پر انحصار کریں۔
