ترجمان سپریم کورٹ نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز اور اہل خانہ کو تلاشی سے استثنیٰ دینے کے معاملے پرسیکریٹری ایوی ایشن اور ڈی جی ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کو خط ارسال کیا ہے۔
صارفین کے ڈپازٹس مکمل طور پر محفوظ ہیں،ایزی پیسہ
خط کے متن کے مطابق 12اکتوبر 2023 کو لکھا گیا خط چیف جسٹس اور اہلخانہ کے ترکیہ جانے کے بعدسامنے آناحیرت انگیز ہے۔
غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے رجسٹرار سپریم کورٹ کا 21 ستمبر 2023 کا خط بھی جاری کیا جائے۔جسمانی تلاشی سے استثنیٰ کے رولز سپریم کورٹ نے نہیں بنائے اور نہ ہی استثنیٰ مانگا گیا۔
پرتھ ٹیسٹ میں سلواوور ریٹ پر پاکستان پر جرمانہ عائد
رجسٹرار سپریم کورٹ نے صرف ایک غلطی کی نشاندہی کی،رولز کے مطابق ریٹائرڈ ججز کے اہلخانہ کو استثنیٰ حاصل ہے،رولز کے مطابق حاضر سروس ججز کے اہلخانہ کو استثنیٰ حاصل نہیں۔
آپ کے خط نے یہ تضاد ختم کرتے ہوئے اس کی وضاحت پیش نہیں کی،نہ اے ایس ایف اور نہ ہی حکومت کو حفاظتی انتظامات کی خلاف ورزی کی کوئی فکر ہے۔
جو خط 66 دن قبل لکھا گیا وہ چیف جسٹس کے بیرون ملک جانے کے بعد منظر عام پر آیا۔اہل خانہ کے جسمانی تلاشی سے استثنیٰ کے کارڈز ابھی تک موصول نہیں ہوئے۔
پی ٹی آئی ورچوئل جلسے میں عمران خان کے خطاب کیلئے مصنوعی ذہانت استعمال ہونے کا انکشاف
16دسمبر کی رات مسز سرینا عیسیٰ خود ایئرپورٹ سیکیورٹی آفس کے اندر گئیں ،ایک خاتون اہلکار نے مسز سرینا عیسیٰ کی تلاشی لی،ایئرپورٹ کے سکیورٹی کیمروں سے اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
کوئی استثنیٰ نہ تو مانگا گیا اور نہ ہی دیا گیا،چیف جسٹس کو ایئرپورٹ پر وی آئی پی لاؤنچ کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لگژری لیموزین کے استعمال سے بھی انکار کیا۔
