دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنی ضروریات کا بڑا حصہ سولر انرجی پر منتقل کر چکے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی سولر پینل سے بجلی حاصل کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہو چکا ہے۔
تفصیلت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث کرہ ارض کا درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہےجس کی وجہ سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اب توانائی کے حصول کیلئے متبادل طریقے اپنا رہے ہیں جن سے کاربن اخراج کم سے کم ہو۔
سولر پینل اور بیٹریوں کی قیمت میں بڑی کمی
اس حوالے سے سولر انرجی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے کیونکہ اس کا استعمال کر کے شمسی توانائی کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اب لوگ سولر پینلزکی طرف متوجہ ہو چکے ہیں۔ مارکیٹس میں سولر پینلز کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سولر پینل درآمد کرنیکی آڑ میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
ماہرین کے مطابق اگر بڑے پیمانے پر سولر انرجی سے استفادہ کیا جائے تو پاکستان میں بجلی کے بحران پر قابوپایا جا سکتا ہے۔
