وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے فیول اور بجلی پر سبسڈی واپس لینے کی اہمیت پر زور دیا ہے، مالی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی کی ضرورت ہوگی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے مالی سال 2023کےاہداف پر تبادلہ خیال کیا، حکومت مالی سال 2023 میں بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے پرعزم ہے، آئی ایم ایف ٹیم سے فروری 2022 میں فیول سبسڈی پر بات ہوئی، مالی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیےسخت مالیاتی پالیسی کی ضرورت ہوگی۔
وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ حکومت پروگرام جاری رکھنے اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلیے پرعزم ہے، گزشتہ حکومت نے معاہدے کی خلاف وزری کرتے ہوئے سبسڈی دی تھی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے اور پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔
I have just returned from Doha after talks with the IMF. Our delegation had very useful and constructive discussions with the IMF team over the last week.
We discussed significant slippages in FY 22, caused in part by the fuel subsidies given in February 2022. 1/3
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) May 26, 2022
