واشنگٹن: خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف می ٹو مہم کو سوشل میڈیا پر لانے والی امریکی اداکارہ الیسا ملانو سابق امریکی نائب صدر جو بائڈن کے حق میں بول پڑی ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں امریکی اداکارہ نے کہ مجھے جوبائڈن کیساتھ دوستی پر فخر پر، وہ خواتین پر تشدد کیخلاف چمپئن رہے ہیں اور میں خوش قمستی سے کئی پرگرامز میں ان کے ساتھ رہی ہوں۔
https://twitter.com/Alyssa_Milano/status/1112869883069382656
اداکارہ نے لکھا کہ ایسے کلچر کی تشکیل کیلئے جہاں عورتوں کی بات سنی جائے اور برابری دی جائے جو باڈن جیسے رہنما کی ضرورت ہے۔
https://twitter.com/Alyssa_Milano/status/1112871010087268353
الیسا ملانو نے ٹویٹ کیا کہ میں لوسی فلوریس کی طرف سے دیے گئے بیان کا احترام کرتی ہوں اور جو بائڈن کی اس بات سے بھی اتفاق کرتی ہوں کہ ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے لکھا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ان تمام عورتوں کے تجربات ایک جیسے ہیں جو سامنے آکر بات کرتی ہیں۔
https://twitter.com/Alyssa_Milano/status/1112871011756564480
امریکی اداکارہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ مجھے یقین ہے جو بائڈن کا مقصد کسی کو بے چین کرنا نہیں، ہمیں ان جیسی ہمدرد قیادت کی بالخصوص اس وقت ضرورت ہے۔
https://twitter.com/Alyssa_Milano/status/1112871013425983488
یاد رہے کہ امریکی سیاست دان اور نواڈا اسٹیٹ اسمبلی کی سابق رکن لوسی فلوریس نے سابق نائب امریکی صدر جو بائڈن پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ لوسی فلوریس کےمطابق سابق امریکی نائب صدر نے 2014 میں الیکشن مہم کے دوران سر پر بوسہ دیا اور نامناسب طریقے سے چھوا تھا۔
امریکی نائب صدر نے جواب میں کہا میرا نہیں خیال کہ میں نے کبھی نامناسب برتاؤ کیا ہو لیکن ہمیں دوسروں کی بات پر بھی غور کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس نیوزویک پاکستان کے ایک اڈیٹر نے بھی کچھ متنازعہ مواد ٹویٹ کیا تھا اور اس وقت بھی الیساملانو نے معاملے کو نیوزویک امریکہ کے سامنے اٹھایا تھا جس پر امریکی ادارے نے کہا تھا کہ ہم طے شدہ شرائط و ضوابط کے مطابق اپنے کنٹریکٹ پر نظرثانی کر رہے ہیں۔


