اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری کے ماتحت ادارے میں اہم عہدوں کی بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے۔
ہم نیوز کے مطابق فواد چودھری کے ماتحت ادادے ’پریس کونسل آف پاکستان‘ میں من پسند افراد کی بھرتیوں اور ان کی اپ گریڈیشن سامنے آئی ہے۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق گریڈ 16 سے 18 تک کی بھرتیوں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحان اور بورڈ کی منظوری کے لازمی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
ہم نیوز کو اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پریس کونسل آف پاکستان میں بندر بانٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایل ڈی سی (لوئر ڈویژن کلرک) معین الدین کو چھ ماہ میں اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس ضمن میں یہ ہوشربا انکشاف بھی کیا ہے کہ سپریٹنڈنٹ سے رجسٹرارتک کے مناصب پر براہ راست بھرتیاں کی گئیں جو گریڈ 16 سے 19 میں ہوئیں جبکہت رقی کے منتظر کئی افسران اس سلسلے میں نظرانداز کیے گئے جس کی وجہ سے ان کی حق تلفی ہوئی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ستمبر 2018 میں چئیرمین پی سی پی صلاح الدین مینگل نے چار اسسٹنٹس کو گریڈ 16 میں ترقی دی گئی تھی۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تمام افسران لاکھوں روپے مالیت کا سرکاری پیٹرول اور سرکاری گاڑیاں استعمال کررہے ہیں۔

ہم نیوز کے ملنے والی دستاویزات کے مطابق رجسٹرار، اے پی ایس اور ڈپٹی ڈائریکٹرز ماہانہ 100 سے 200 لیٹر تک حکومتی وسائل سے پیٹرول استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے تحت ارشد اقبال، سکندر علی، اعجاز حسین، نورین احمد، عدنان ڈہر اور شہنیلا ایمن شاہد حکومتی وسائل سے فائدہ اٹھانے والے افسران میں شامل ہیں۔
