امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران آج تک کے سب سے سخت حملے کیے جائیں گے اور کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی رجیم کی اعلیٰ قیادت زیرزمین چلی گئی ہے جبکہ امریکا اوراسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں نے ایران کی عسکری طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ان کے مطابق اب تک ایران میں 15 ہزار سے زیادہ فوجی اہداف کونشانہ بنایا جا چکا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ روزانہ اوسطاً ایک ہزار سے زیادہ حملے کیے جا رہے ہیں جو امریکی فضائیہ اور اسرائیلی فضائیہ مشترکہ طور پر انجام دے رہی ہیں۔
جی سیون ممالک کا ٹرمپ سے ایران جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ
ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے فضائی دفاعی نظام تقریباً ناکارہ ہو چکے ہیں جبکہ اس کی فضائیہ اور بحریہ بھی شدید کمزور ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل حملوں کی صلاحیت میں تقریباً 90 فیصد جبکہ ڈرون حملوں کی صلاحیت میں 95 فیصد کمی آ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کا ہدف ایران کی تمام اہم فوجی صلاحیتوں کو تباہ یا غیر فعال کرنا ہے اور جلد ہی ایران کی دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین نے کہا کہ ایران پر حملوں کا آج چودھواں دن ہے اور دو ہفتوں سے کم عرصے میں ایرانی بحریہ کو بڑی حد تک غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ایران اب بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور اتحادی افواج کو نقصان پہنچانے کی محدود صلاحیت رکھتا ہے، تاہم امریکی سینٹ کام ایسی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دے گا۔
