اسلام آباد: نگراں وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفر نے کہا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا کیونکہ ہم نے 40 سال سے کوئی ڈیم نہیں بنایا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کے بغیر جمہوریت کا چلنا ممکن ہی نہیں ناممکن ہے، عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ عوامی آرا اور تجاویز بہتری میں مدد دیتی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے الیکشن کمیشن کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا شفاف اور آزادانہ انعقاد ہماری ذمہ داری ہے اس لیے نگراں کابینہ کے فیصلے غیرسیاسی ہوں گے۔
ملک میں بڑھتی غیرعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کی چار وجوہات سامنے آئی ہیں، ایک تو بجلی کی طلب اور رسد میں فرق ہے جبکہ دوسری وجہ پانی اور دیگر وسائل کی کمی ہے، تیسری وجہ بجلی کی فراہمی میں مسائل کا سامنا اور چوتھی وجہ بجلی چوری والے علاقوں میں حکومت کی جانب سے بنائی گئی پالیسی ہے۔
پاکستان میں بجلی کی مثالی صورت حال میں 28 ہزار میگا واٹ بجلی کی صلاحیت ہے تاہم کبھی بھی 28 ہزار میگاواٹ بجلی نہیں بنائی گئی، اس وقت بھی پاکستان میں 21 سے 22 ہزار میگاواٹ بجلی بنائی جا رہی ہے جبکہ بجلی کی طلب 23 سے 24 ہزار میگاواٹ ہے۔
وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ بجلی کی طلب موسم کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے، حالیہ لوڈشیڈنگ میں اضافے کی وجہ پانی میں کمی ہے، پورٹ قاسم کے پارٹ ون اور ٹو میں فنی خرابی آئی تھی جبکہ بلوکی پاور اسٹیشن بند ہونے سے بھی ایک ہزار میگاواٹ کمی کا سامنا ہوا، اب پانی میں اضافے کی وجہ سے تین سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔
علی ظفر نے یقین دہانی کرائی کہ جولائی تک بجلی کی طلب اور رسد میں فرق ختم ہوجائے گا کیونکہ پورٹ قاسم کے 1300 میگاواٹس بھی سسٹم میں شامل ہو چکے ہیں۔
