اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ کی پیکا آرڈیننس کے خلاف درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف ن لیگ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اصل اسٹیک ہولڈرز نے یہ آرڈیننس عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور سیاسی جماعتوں کے پاس تو پارلیمنٹ کا فورم موجود ہے اور عدالت چاہتی ہے کہ سیاسی جماعتیں عدالتوں کے بجائے پارلیمنٹ میں جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 89 میں ارکان پارلیمنٹ آرڈیننس کو مسترد کر سکتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو مجلس شوریٰ کو مضبوط کرنا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا عدالتوں میں آنا مجلس شوریٰ کو بے توقیر کرنے کے برابر ہے جبکہ سیاسی جماعتیں غیرضروری چیزیں عدالتوں میں نہ لائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید25 اموات
چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عدالتوں میں آنے کے بجائے پارلیمنٹ جائیں گے تو وہ مضبوط ہوں گی اور پارلیمنٹ کا بہت بڑا اختیار ہے وہ آئین میں ترمیم بھی کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عدالت یقین دلاتی ہے کہ یہ عدالت اس معاملے پر کسی سیاسی جماعت کی درخواست نہیں سنے گی۔ سیاسی جماعتوں کے پاس مجلس شوریٰ کا متبادل فورم موجود ہے۔
