فوری طور پر علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
وقت کی دھول سارے سوالات کو ڈھانپ لیتی ہے تاوقتیکہ پھر کوئی حادثہ رونما نہ ہو۔
حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسرز سے بھی مدد و تعاون حاصل کریں گے۔
9 لاشوں کے صدمے سے نڈھال ورثا نے چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
عمارت کے ملبے سے پانچ افراد کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا ہے جب کہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔
جاں بحق افراد کی شناخت 35 سالہ محمد اکرم اور نازیہ کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمیوں میں بچیاں دس سالہ ثانیہ اور آٹھ سالہ زینب شامل ہیں۔





