رہائی پانے والے قیدی مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، انسانیت کے جذبے کے تحت فیصلہ کیا گیا،گلف نیوز
کورونا وائرس کے متعلق صرف میٹنگ میٹنگ ہورہی ہے، زمین پر کچھ بھی کام نہیں ہورہا ہے، چیف جسٹس
اسلام آباد ہائیکورٹ کا قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں، سندھ ہائیکورٹ میں بھی کسی بادشاہ نے شاہی فرمان جاری کیا، ایسا نہیں ہو سکتا کوئی خودکوبادشاہ سمجھ کر حکم جاری کرے، چیف جسٹس
بلاشبہ کورونا وائرس ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو رہا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، چیف جسٹس
ہائی کورٹ کا حکم قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے فیصلوں اور آرٹیکل 10 اے کی بھی خلاف ورزی ہے، درخواست
پاکستان افغان امن کیلئے سازگار ماحول تو دے سکتا ہے لیکن فیصلے نہیں کرسکتا، وزیرخارجہ



