پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اہم دفاعی معاہدے کے بعد سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کا اہم بیان سامنے آگیا۔
پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں ایک اہم دفاعی معاہدہ کیا ہے جسے “Strategic Mutual Defence Agreement” کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا گیا تو اسے دونوں ملکوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس تقریب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے حوالے سے کہا:
“سعودیہ اور پاکستان۔۔
جارح کے خلاف ایک صف میں۔۔
ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے۔”
KSA and Pakistan..
One front against any aggressor..
Always and forever.🇸🇦🇵🇰 https://t.co/2rYaZEVIjt— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) September 17, 2025
ان کا یہ بیان اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے بلکہ دفاع کے لیے مل کر مشترکہ حکمت عملی اور ردعمل کا عہد بھی کریں گے۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، باہمی مشاورت ہوگی، مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے گی اور خطے کے خطرات کے خلاف مل کر تیاریاں کی جائیں گی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت آیا ہے جب خلیجی ممالک اور پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی سلامتی کی کشیدگی، اسرائیل-قطر تنازع اور امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔
پاک سعودی عرب معاہدے کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لیں گے، بھارت
یہ دفاعی معاہدہ صرف فوری ردعمل نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے طویل المدتی تعلقات اور مشترکہ دفاع کی حکمت عملی کا مظہر ہے۔
خالد بن سلمان کے بیان نے عوامی جذبات کو بھی اجاگر کیا کہ اب دونوں ممالک ایک صف میں کھڑے ہوں گے، خاص طور پر اگر کوئی جارحیت ہوئی تو۔
