ملزم کو تین دن تک پناہ دینے والوں کو بھی شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے، انچارج پراسیکیوٹر
ڈی آئی جی نے بچے کے والد کو یقین دہانی کرائی کہ مرکزی ملزم کو جلد گرفتار کرکے عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
پنجاب بھر میں رواں سال دس سال سے کم عمر بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے 1,333 مقدمات درج ہوئے
2019 کے پہلے دس ماہ میں ضلع لاہور بچوں سے زیادتی کے کل 1219 کیسز رپورٹ ہوئے
نہر نو بہار سے ملنے والی برہنہ نعش کی شناخت ارسلان کے نام سے کی گئی ہے جو یکم اکتوبر کو شہر سے اغوا ہوا تھا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ملزم اس سے قبل بھی 5 سالہ بچے سے بدفعلی کا جرم ثابت ہونے پر ڈیڑھ سال کی سزا کاٹ چکا ہے۔
‘بچوں کی تلاش کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔’
پولیس کے دو افسران کی خدمات وفاق کے سپرد
عطاالرحمان نے غیر اخلاقی ویڈیو بناکر 11 ماہ تک مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا، طالبہ
ملزم نے ایک ماہ کے دوران 8 سے 12 سال کی بچیوں کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔
بچی بارش میں نہانے کے لیے دروازے سے باہر نکلی تھی اور کافی دیر واپس نہیں آئی، والدین
ایس پی سٹی منصور قمر نے یہ افسوسناک انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد متاثرہ خاندان کی صلح ہوگئی تو چاروں ملزمان ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 76 بچوں سے ان کی ’ معصومیت‘ لاہور میں چھینی گئی۔
پولیس اہلکاروں پر مبینہ زیادتی کا الزام لگانے والی لڑکی عدالت میں اپنے بیان سے مکر گئی ہے
ابتدائی رپورٹ کے مطابق چوتھی جماعت کی طالبہ کو گھر سے اسکول بلا کر پرنسپل آفس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا














